
لاہور (نیوزڈیسک) اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ آئین لکھنے کا حق پارلیمنٹ کو ہے، سپریم کورٹ کو آئین لکھنے کا حق نہیں ہے،شہباز شریف کو جیل میں گھر کا کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا،بانی پی ٹی آئی کوئی انوکھا لاڈلا ہے کیا ۔جوڈیشل کمپلیکس لاہور کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے آج ذہنی کوفت ہوئی ہے کہ ہتک عزت کے دعوی میں پیش ہوا ہوں، یہ دونوں ایک شخصیت ہیں ان کے اس کیس سات آٹھ سال سے زیر سماعت ہے، مجھے نظام عدل پر اور بطور گواہ ہونے پر یہ کیس جلد حل ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ وکلاء اور ہم سب لوگوں کو ملکر بیٹھنا چاہیے اور اس کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا، نظام عدل میں لوگوں کو بروقت انصاف ملنا چاہیے، یہ ترامیم آج ہوئی ہیں، میں پچھلے پندرہ سال سے شور مچا رہا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پارلیمنٹ اپنا حق چھوڑ دے، یہاں تو فیصلے آتے رہے پانامہ کیس جیسے، یہاں تو فیصلے آتے رہے وزیراعظم کو گھر بھجوانے کے، میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ نے اپنی بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں بطور اسپیکر اپوزیشن کو زیادہ وقت دیتا ہوں، آئین لکھنے کا حق پارلمینٹ کو ہے، سپریم کورٹ کو آئین لکھنے کا حق نہیں ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شہباز شریف کو اسی جیل مینوئل کے تحت جیل میں رکھا گیا تھا، ان کو تو گھر کا کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا،بانی پی ٹی آئی کوئی انوکھا لاڈلا ہے کیا ۔واضح رہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہتک عزت کے دعوی پر سماعت کے دوران بطور گواہ پیش ہوئے۔اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے شہباز شریف کیس میں بیان قلمبند کروا دیا۔
Comments